اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو تنخواہ دار طبقے، مزدوروں اور عام عوام کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اپنی تمام تر کوششیں متوسط اور کم آمدنی والے طبقات پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے پر مرکوز رکھی ہیں۔
اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملکی معیشت درست سمت میں گامزن رہی ہے اور اب پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی ایک مسلسل عمل ہے اور حکومت نے دستیاب مالی وسائل کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، نوجوانوں، کسانوں، برآمد کنندگان اور کاروباری شعبے کو خصوصی مراعات فراہم کی گئی ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور یہ حجم بڑھ کر ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو کاروبار کے فروغ کے لیے 262 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
زرعی شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ زرعی قرضوں کا حجم 15 فیصد اضافے کے بعد 20 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ نئے بجٹ میں زراعت کے لیے 125 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کسانوں کی سہولت کے لیے زرعی مشینری اور آلات پر عائد تمام ڈیوٹیز اور ٹیکس ختم کر کے انہیں صفر کر دیا گیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے دکانداروں کے لیے بھی نئی ریٹیلر اسکیم متعارف کرائی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں تیل کا درآمدی بل کافی زیادہ تھا، تاہم مئی میں اس میں نمایاں کمی آئی اور یہ کم ہو کر تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگیا۔
سولر پینلز کی قیمتوں سے متعلق افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور ذرائع حقائق کی بنیاد پر بات کریں۔
انہوں نے ہاؤسنگ سیکٹر کے حوالے سے کہا کہ بڑے شہروں میں ایک کروڑ روپے کا ہاؤسنگ قرضہ ناکافی ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت نے اس ماڈل پر کامیاب پیش رفت کی ہے اور نجی شعبے کو بھی اس میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ صرف لیوی کے نظام میں معمولی ردوبدل کیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں موجود وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بجٹ کو ہر طبقے کے لیے متوازن اور عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا تھی۔
انہوں نے بتایا کہ نئے ٹیکس نظام کے تحت ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر صرف 500 روپے ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ دو لاکھ روپے ماہانہ آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح ساڑھے 13 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت کی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت اب تک 11 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ نئے بجٹ میں کم آمدنی والے افراد کے لیے ہاؤسنگ منصوبوں کی مد میں 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے نظام میں وسیع اصلاحات کی گئی ہیں اور ٹیکس وصولی کے ادارے کو ہر قسم کے دباؤ اور سفارش سے پاک بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ایک ایسا بجٹ پیش کیا گیا ہے جو روزگار، صنعت، برآمدات اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ برآمدات میں اضافہ نہ صرف صنعتوں کی توسیع کا سبب بنتا ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ہاؤسنگ اسکیم کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک عام مزدور اور ڈرائیور کو بھی گھر بنانے کے لیے قرضوں کی سہولت میسر آئی ہے، جو حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا عملی ثبوت ہے۔