حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا اور ایران میں نیا سفارتی تنازع، تہران نے ٹرمپ کے اعلان کو سیاسی ڈرامہ قرار دے دیا Home / بین الاقوامی /

امریکا اور ایران میں نیا سفارتی تنازع، تہران نے ٹرمپ کے اعلان کو سیاسی ڈرامہ قرار دے دیا

ایڈیٹر - 14/06/2026
امریکا اور ایران میں نیا سفارتی تنازع، تہران نے ٹرمپ کے اعلان کو سیاسی ڈرامہ قرار دے دیا

تہران: ایران کی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آج امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اتوار کے روز کسی بھی قسم کے معاہدے کا نہ کوئی امکان ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی باضابطہ پیش رفت ہوئی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ کسی معاہدے پر دستخط کی خبریں بے بنیاد ہیں اور امریکی صدر کے حالیہ بیانات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 14 جون کو ممکنہ معاہدے کی تقریب کا ذکر دراصل ایک علامتی سیاسی اقدام ہے، جس کا مقصد سفارتی کامیابی کا تاثر دینا، ذاتی تشہیر کرنا اور عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنا ہے۔

تہران نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ اس نوعیت کے غیر مصدقہ اور قبل از وقت دعوے نہ صرف حقیقت کے منافی ہیں بلکہ یہ سنجیدہ سفارتی عمل کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور مذاکراتی ماحول کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا، جس کے بعد آبنائے ہرمز کو تمام فریقین کے لیے دوبارہ مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی اور خطے میں معمول کے حالات بحال ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا مستقبل میں ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے اور امید ہے کہ یہ عمل جلد اور آسانی سے مکمل ہو جائے گا۔

تاہم ایران کی تازہ تردید کے بعد واشنگٹن اور تہران کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آ گیا ہے، جس سے ممکنہ معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے دوٹوک مؤقف کے بعد یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کس مرحلے میں ہیں اور آیا مستقبل قریب میں کسی باضابطہ معاہدے کے امکانات موجود ہیں یا نہیں۔