پاکستان کے بیرونی تجارتی شعبے کو رواں مالی سال کے دوران دباؤ کا سامنا رہا ہے، جہاں درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث تجارتی خسارہ نمایاں طور پر بڑھ گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے مئی 2026 تک ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 34 ارب 76 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 17.48 فیصد زیادہ ہے۔
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.61 فیصد کم ہیں۔ تاہم مئی 2026 کے دوران برآمدی شعبے میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی اور برآمدات 2 ارب 70 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ماہانہ بنیادوں پر 9.59 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر 1.26 فیصد زیادہ ہیں۔
دوسری جانب درآمدات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی 2025 سے مئی 2026 کے دوران درآمدات کا مجموعی حجم 62 ارب 66 کروڑ ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.94 فیصد زیادہ ہے۔ مئی 2026 میں درآمدات 5 ارب 29 کروڑ ڈالر رہیں، تاہم اس دوران ماہانہ بنیادوں پر 21.45 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 6.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں پاکستان کا ماہانہ تجارتی خسارہ 2 ارب 58 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا، جو اپریل کے مقابلے میں 39.43 فیصد کم ہے، جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں بھی اس میں 13.68 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق برآمدات میں سست روی اور درآمدی بل میں اضافے نے ملک کے تجارتی توازن کو متاثر کیا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں برآمدی شعبے کی کارکردگی اور عالمی منڈیوں کی صورتحال پاکستان کی معاشی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔