اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کی ذیلی کمیٹی کی سفارش پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے ملک کی مستحق اور غیر شادی شدہ خواتین کو بھی اس امدادی نیٹ ورک میں شامل کرنے کا ایک تاریخی اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کے دوران سماجی تحفظ کے پروگراموں کی افادیت اور دائرہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کے معزز رکن بلال مندوخیل نے توجہ دلائی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے موجودہ ڈھانچے میں غیر شادی شدہ خواتین شامل نہیں ہیں، جو کہ موجودہ معاشی حالات میں ایک بڑا خلا ہے۔
بلال مندوخیل نے کمیٹی کو مائل کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں سب سے زیادہ معاشی اور سماجی مدد کی حق دار وہ غیر شادی شدہ خواتین ہیں جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا اور وہ تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس اہم نکتے کی تائید کرتے ہوئے بی آئی ایس پی (BISP) حکام نے اجلاس کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ ادارے نے پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب 35 سال سے بڑی عمر کی تمام مستحق غیر شادی شدہ خواتین کو بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد معاشرے کے اس پسماندہ طبقے کو مالی خودمختاری فراہم کرنا اور معاشی بحران کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکام کے مطابق اس نئی پالیسی کے طریقہ کار کو جلد ہی حتمی شکل دے کر رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔