حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
بجٹ 2026-27 پر آئی ایم ایف اور حکومت کا تاحال ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہیں ہوسکا، Home / پاکستان /

بجٹ 2026-27 پر آئی ایم ایف اور حکومت کا تاحال ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہیں ہوسکا،

ایڈیٹر - 03/06/2026
بجٹ 2026-27 پر آئی ایم ایف اور حکومت کا تاحال ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہیں ہوسکا،

اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اہم مالیاتی اہداف پر تاحال مکمل اتفاق رائے قائم نہ ہو سکا، جبکہ ٹیکس وصولیوں اور سرکاری اخراجات میں کمی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان محصولات بڑھانے اور مالی نظم و ضبط کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ تاہم بعض اہم معاملات پر ابھی تک حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں صوبائی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو مرحلہ وار محدود کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ اس مجوزہ پالیسی پر صوبہ سندھ اور خیبرپختونخوا نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک جانب آئی ایم ایف کے مالیاتی اہداف ہیں جبکہ دوسری جانب صوبوں کے تحفظات، جس کے باعث وفاقی حکومت کو دونوں فریقوں کو مطمئن کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم 1126 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی بجٹ 3118 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت صوبائی نوعیت کے منصوبوں کے لیے صرف 100 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔

خیبرپختونخوا کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ صوبے کے 786 جاری اور مجوزہ منصوبوں میں سے صرف 6 منصوبوں کے لیے 1.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے 8.6 ارب روپے الگ رکھے گئے ہیں۔ صوبائی حکام کو خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں وفاقی ترقیاتی پروگرام میں صوبے کا حصہ مزید کم یا مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے دوران تقریباً 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولیوں کا ہدف مقرر کرنے پر زور دیا ہے۔ ساتھ ہی صوبائی حکومتوں کو بھی مجموعی طور پر 430 ارب روپے اضافی ریونیو جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے دو فیصد کے مساوی، یعنی تقریباً 2900 ارب روپے کا پرائمری سرپلس حاصل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جسے آئندہ بجٹ کی تیاری میں ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔