کویت سٹی: کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی جبکہ فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا اور متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ ہوائی اڈے اور اس کے اطراف واقع اہم عمارتوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
واقعے کے بعد کویت اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
کویتی وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ بیان میں حملوں کو شہری تنصیبات پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ وزارت کے مطابق کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دیگر حساس مقامات کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ سفارتی دفاتر اور اہم املاک بھی متاثر ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ کویتی حکام نے واضح کیا کہ ملک اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے خطے میں جاری تناؤ کا ذمہ دار کویت اور بحرین کو قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال امریکی فوجی سرگرمیوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا نتیجہ ہے۔
ایرانی حکام نے الزام عائد کیا کہ کویت اور بحرین کی سرزمین اور عسکری سہولیات کو ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
ایران نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور اگر اس کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو وہ مناسب جوابی اقدامات کرنے کا اختیار محفوظ رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت خلیجی خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ علاقائی اور عالمی قوتیں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہیں۔