اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ وفاقی بجٹ میں عوامی سہولت اور معاشی بہتری کے لیے خصوصی اقدامات شامل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں ملک کے ممتاز صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے نجی شعبے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کاروباری برادری عالمی سطح پر ملک کی مثبت شناخت اور معاشی نمائندگی کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کے ساتھ تعاون پر صنعتکاروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ملاقات میں میاں منشاء، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی ٹبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر اور دیگر معروف کاروباری رہنما شریک ہوئے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط اشتراک ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں کاروباری برادری کی رائے اور مشاورت کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی حکمت عملی کو آگے بڑھا رہی ہے اور یہی قومی اقتصادی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ ان کے مطابق غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نظام کا حصہ بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ محصولات میں اضافہ اور معاشی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری اور صنعتوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے بقول کاروبار دوست پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے جبکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو مقامی پیداوار میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکیں۔