پشاور: شادی کی تقریب میں معمولی تکرار پر حافظِ قرآن کا قتل، علاقے میں سوگ کا سماں
پشاور کے نواحی علاقے خزانہ شیرو جنگلی میں شادی کی ایک تقریب اس وقت ماتم میں تبدیل ہوگئی جب تیز موسیقی اور آتش بازی کے تنازع پر ہمت اور برداشت کھو دینے والے پڑوسیوں نے فائرنگ کر کے 17 سالہ حافظِ قرآن، قاری زرداران کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
تفصیلات کے مطابق، مقتول زرداران اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مہندی کی تقریب میں موجود تھے جہاں تیز موسیقی اور آتش بازی کی جا رہی تھی۔ مقامی افراد اور مقتول نے جب شور و غل سے منع کیا تو ملزمان طیش میں آگئے اور کلاشنکوف سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کی زد میں آکر نوجوان زرداران شدید زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
پولیس نے مقتول کے والد، دلاور خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور شہری حلقوں نے شادی بیاہ کی تقریبات میں اسلحہ کے استعمال اور ہلڑ بازی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔