حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
مالک کی رضامندی کے بغیر اس کی جائیداد حق مہر کا حصہ نہیں بن سکتی، سپریم کورٹ۔ Home / پاکستان /

مالک کی رضامندی کے بغیر اس کی جائیداد حق مہر کا حصہ نہیں بن سکتی، سپریم کورٹ۔

ایڈیٹر - 11/05/2026
مالک کی رضامندی کے بغیر اس کی جائیداد حق مہر کا حصہ نہیں بن سکتی، سپریم کورٹ۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حق مہر میں کسی تیسرے شخص کی ملکیت شامل کرنے کے حوالے سے اہم قانونی اصول طے کر دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک حالیہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی تیسرے شخص کی ملکیت کو اس کے مالک کی صریح رضامندی کے بغیر حق مہر کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے پشاور ہائیکورٹ کے 22 مارچ 2024 کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی اور تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے مدعیہ کے حق میں ایک کنال پلاٹ کی ڈگری منسوخ کر دی۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حق مہر میں درج متعلقہ پلاٹ مدعیہ کے شوہر کے نام نہیں تھا بلکہ ریکارڈ کے مطابق وہ درخواست گزار (سسر) کی ملکیت تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ماتحت عدالتوں اور ہائیکورٹ نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا اور ملکیت کے اس اہم پہلو کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نکاح نامہ کے گواہان بھی جرح کے دوران دستاویز کی تیاری کے وقت اپنی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

سپریم کورٹ نے پلاٹ کی حد تک فیملی کورٹ، اپیلٹ کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے، تاہم حق مہر میں شامل دیگر اشیاء بشمول 5 لاکھ روپے نقد اور سونے کے زیورات کی حد تک سابقہ فیصلے برقرار رکھے گئے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کو قانونی غلطی پر مبنی اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تھی کیونکہ کسی کی ذاتی ملکیت کو اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کے نام منتقل نہیں کیا جا سکتا۔