حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایرانی پارلیمنٹ: جنگ کے بعد پہلا اجلاس، امریکا سے مفاہمتی یادداشت ختم کرنے اور سید علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا مطالبہ Home / /

ایرانی پارلیمنٹ: جنگ کے بعد پہلا اجلاس، امریکا سے مفاہمتی یادداشت ختم کرنے اور سید علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا مطالبہ

ایڈیٹر - 15/07/2026
ایرانی پارلیمنٹ: جنگ کے بعد پہلا اجلاس، امریکا سے مفاہمتی یادداشت ختم کرنے اور سید علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا مطالبہ

تہران: امریکا کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا باضابطہ اجلاس اہم سیاسی فیصلوں اور سخت مؤقف کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں متعدد ارکان نے امریکا کے ساتھ موجود مفاہمتی یادداشت ختم کرنے، نئی خارجہ حکمت عملی اپنانے اور سید علی خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے کا مطالبہ کیا۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دو سو نوے رکنی پارلیمنٹ کے ایک سو اسی ارکان نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد امریکا کے ساتھ موجودہ مفاہمتی یادداشت کو برقرار رکھنا مناسب نہیں رہا، اس لیے قومی مفادات کے پیش نظر نئی پالیسی اور حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔

تقریباً چار ماہ بعد ہونے والے اس اجلاس میں پارلیمانی قواعد و ضوابط میں بھی اہم تبدیلیوں کی منظوری دی گئی۔ نئی ترامیم کے مطابق مستقبل میں جنگ، ہنگامی حالات یا دیگر غیر معمولی صورتحال کے دوران پارلیمنٹ کے اجلاس آن لائن یا ورچوئل طریقے سے بھی منعقد کیے جا سکیں گے تاکہ قانون سازی اور دیگر پارلیمانی امور کا تسلسل برقرار رہے۔

اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک مینجمنٹ سے متعلق ایک نیا بل بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی انتظامی نگرانی، سلامتی اور اس سے متعلق پالیسی سازی کو مزید مؤثر بنانا بتایا گیا۔

پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے اجلاس کے دوران سید علی خامنہ ای کی شہادت کے انتقام کا مطالبہ کرتے ہوئے سرخ پرچم بھی بلند کیے، جو ایران میں مزاحمت اور انتقام کی علامت تصور کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں ایرانی مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار بھی کیا گیا، جبکہ مستقبل میں بین الاقوامی سفارت کاری اور مذاکراتی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے ایک خصوصی مذاکراتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جو آئندہ خارجہ پالیسی سے متعلق سفارشات مرتب کرے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ جنگ کے بعد منعقد ہونے والا یہ پارلیمانی اجلاس ایران کی داخلی سیاسی سمت اور خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے نزدیک اجلاس میں سامنے آنے والے مطالبات مستقبل میں ایران اور امریکا کے تعلقات پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

نوٹ: اس خبر میں سید علی خامنہ ای کی شہادت، حالیہ جنگ اور دیگر متعلقہ دعوے فراہم کردہ معلومات اور ان سے منسوب بیانات پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔