ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس کی ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات میں پولیس کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، پولیس نے مدرسے کے قریب سے شک کی بنیاد پر بعض افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن سے نامعلوم مقام پر تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی ٹیموں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مزید مشکوک افراد کی نشاندہی کر لی ہے جس کے بعد گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی حساسیت کے پیشِ نظر تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جو راولپنڈی اور لاہور روانہ ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب، واقعے میں زخمی ہونے والے دونوں پولیس اہلکاروں کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے اور انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
حکومتی سطح پر ایک اہم فیصلے کے تحت شہید مولانا محمد ادریس کے بھائی اور بیٹے کو پولیس سیکیورٹی فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی باضابطہ منظوری آج ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی جائے گی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس کا دائرہ کار مزید علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے تاکہ اس بزدلانہ کارروائی کے پسِ پردہ محرکات اور سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔