میڈرڈ : ہسپانوی حکومت نے ملک کی معیشت کو سہارا دینے اور ورک فورس میں اضافے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس بڑے فیصلے کے بعد اسپین کے مختلف شہروں میں انتظامی دباؤ اور گہما گہمی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملکی معیشت کو مستحکم کرنا اور افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا ہے تاکہ سرکاری خزانے میں ٹیکسوں کی صورت میں اضافہ ہو سکے۔ تاہم، ناقدین اس فیصلے کو سرکاری نظام پر ایک اضافی بوجھ قرار دے رہے ہیں، جس کے باعث سرکاری دفاتر میں کام کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، دستاویزات کے حصول کے لیے متعدد مقامات پر تارکینِ وطن کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں، جس سے انتظامی دفاتر پر غیر معمولی بوجھ پڑا ہے۔ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ درخواستوں پر کارروائی کا عمل مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا تاکہ تارکینِ وطن کو جلد از جلد قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔