امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز انہیں موصول ہو چکی ہیں اور وہ جلد ان کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس مجوزہ ڈیل کے خدوخال سے آگاہ کیا گیا ہے، تاہم مکمل متن کا انتظار ہے جس کے بعد وہ حتمی رائے قائم کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے شبہ ظاہر کیا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط قابلِ قبول ہونا مشکل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اب تک اپنے اقدامات کی مکمل قیمت ادا نہیں کی، اور مستقبل میں مزید سخت اقدامات، حتیٰ کہ دوبارہ حملوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جاری پابندیوں اور دباؤ کو انہوں نے “دوستانہ ناکہ بندی” قرار دیا، جس کا مقصد تہران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔