بنیامین نیتن یاہو نے لبنان کی سرحدی صورتحال کے پیش نظر اس سال یہودیوں کے اہم مذہبی تہوار ’لاگ باؤمر‘ کی مرکزی تقریب کو منسوخ کرتے ہوئے اسے محدود پیمانے پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ سالانہ تقریب شمالی اسرائیل میں واقع کوہِ میرون پر منعقد ہوتی ہے، جہاں ہر سال بڑی تعداد میں مذہبی افراد شرکت کرتے ہیں۔ تاہم حکومتی ہدایات کے مطابق اس مرتبہ عوامی اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی اور تقریب کو علامتی انداز میں محدود رکھا جائے گا۔
یہ تہوار دوسری صدی کے معروف مذہبی پیشوا شمعون بار یوحائی کی یاد میں منایا جاتا ہے، جنہیں یہودی تصوف کی معروف کتاب ’زوہر‘ کا مصنف سمجھا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق انہوں نے اپنی وفات کے دن کو غم کے بجائے خوشی کے طور پر منانے کی تلقین کی تھی۔
عام طور پر یہ تقریب مئی کے اوائل میں دو دن تک جاری رہتی ہے، جس میں ہزاروں افراد شریک ہو کر روایتی الاؤ روشن کرتے اور اجتماعی عبادات میں حصہ لیتے ہیں، لیکن اس بار محدود تعداد میں افراد کو شرکت کی اجازت دی جائے گی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق یہ اقدام لبنان کے ساتھ کشیدہ حالات، سرحدی علاقوں کی حساسیت اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بڑے مجمع کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں درپیش مشکلات کے باعث کیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے اسرائیلی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ علاقے میں سکیورٹی سخت کی جائے، سڑکوں کو بند رکھا جائے اور غیر مجاز افراد کو مقام تک پہنچنے سے روکا جائے۔ مزید برآں متعلقہ اداروں کو تقریب سے جڑے انتظامی اور تعمیراتی اقدامات فوری طور پر روکنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔