اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، حسبان میڈیا): پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال اور خراب طرزِ حکمرانی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کو عدالت میں چیلنج کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کی تباہی اور ہسپتالوں میں ادویات کی غیر قانونی خرید و فروخت اب زبان زدِ عام ہے۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے خاموش رہنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ پارٹی کا وجود خطرے میں ہے۔ انہوں نے قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں سزا یافتہ قیدی جیل سے احکامات جاری نہیں کر سکتا، لہٰذا سہیل آفریدی کی نامزدگی کا طریقہ کار غیر قانونی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مضبوط گروپس اس تبدیلی کے خواہاں ہیں کیونکہ موجودہ قیادت نے پارٹی کی مزاحمتی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔
انہوں نے سلمان اکرم راجہ اور دیگر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی کا اتحاد مقصود ہے تو بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور کو مکمل بااختیار بنانا ہوگا اور سہیل آفریدی جیسے چہروں کو فوری طور پر سائیڈ لائن کرنا ہوگا۔
قانونی چیلنج (Legal Challenge): شیر افضل مروت کا موقف ہے کہ جیل میں موجود قیدی کے احکامات پر کی گئی نامزدگی غیر قانونی ہے، جس کے لیے وہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا سہارا لیں گے۔