اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا رہے تاہم علاج کے بعد اب مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے جمعہ کو اپنی سالانہ طبی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران ان کا مرض خفیہ رکھا گیا اور خاموشی سے علاج جاری رہا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کے طویل ترین مدت تک وزیراعظم رہنے والے رہنما نے اپنی کینسر تشخیص سے متعلق عوام کو آگاہ کیا ہے۔
76 سالہ نیتن یاہو نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دسمبر 2024 میں پروسٹیٹ بڑھ جانے کے باعث ان کی سرجری کی گئی تھی، جس کی محدود تفصیلات اس وقت وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کی گئی تھیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ طبی معائنے کے بعد اب وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔