اسلام آباد: وفاقی حکومت کا درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی ختم کرنے کا اصولی فیصلہ، نئی آٹو پالیسی کے خدوخال واضح
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں استحکام اور صارفین کو ریلیف دینے کے لیے درآمدی گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ صنعت و پیداوار نے اس حوالے سے ایک جامع 5 سالہ آٹو پالیسی تیار کر لی ہے، جسے حتمی منظوری کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سامنے رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق، نئی پالیسی کے تحت آئندہ پانچ برسوں کے دوران درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا، جبکہ ابتدائی طور پر کسٹم ڈیوٹی کو محض 15 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی مارکیٹ میں مقابلے کی فضا پیدا کرنا اور گاڑیوں کے معیار کو عالمی سطح پر لانا ہے۔
پالیسی میں گاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی سخت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جس میں سیفٹی اسٹینڈرڈز اور لائسنسنگ کے نظام کو مزید فعال بنایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پالیسی کا حتمی ڈرافٹ رواں ماہ کے آخر تک آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا جائے گا اور وہاں سے گرین سگنل ملتے ہی اسے وفاقی کابینہ میں باقاعدہ منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔ ماہرین اس فیصلے کو آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانے اور عام آدمی کے لیے گاڑی کی خریداری کو آسان بنانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دے رہے ہیں۔