واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آئندہ جمعے کو منعقد ہونے کا امکان ہے، جبکہ اس سلسلے میں مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران دوبارہ رابطہ اور مذاکرات متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بات چیت طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھی تو دوسرا دور جمعے کو ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج کو ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، تاہم ترجیح سفارتی راستے کو دی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایران کے خلاف مجوزہ کارروائی کو وقتی طور پر روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی قیادت، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رابطہ کر کے ایران پر حملہ مؤخر کرنے اور مذاکرات کو موقع دینے کی درخواست کی تھی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع اس وقت تک برقرار رکھی جائے گی جب تک ایران کی جانب سے تجاویز سامنے نہیں آ جاتیں اور مذاکراتی عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
امریکی صدر کے تازہ بیان کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری بھی ایران امریکا مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔