حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا–ایران مذاکرات میں بڑی پیش رفت؟ 20 ارب ڈالر کے بدلے یورینیم معاہدہ زیر غور Home / بین الاقوامی /

امریکا–ایران مذاکرات میں بڑی پیش رفت؟ 20 ارب ڈالر کے بدلے یورینیم معاہدہ زیر غور

ایڈیٹر - 18/04/2026
امریکا–ایران مذاکرات میں بڑی پیش رفت؟ 20 ارب ڈالر کے بدلے یورینیم معاہدہ زیر غور

واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک ایک مجوزہ فریم ورک پر غور کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام کے بدلے مالی رعایت دینے کی تجویز شامل ہے۔

امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق فریقین کے درمیان تین صفحات پر مشتمل ایک ابتدائی مسودے پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد تنازع کم کرنا اور ممکنہ طور پر جنگی صورتحال کا خاتمہ ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے تقریباً 20 ارب ڈالر جاری کرنے پر غور کر رہا ہے، جس کے بدلے تہران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں نمایاں کمی کرے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت تقریباً 2 ہزار کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں سے 450 کلوگرام 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ امریکا اس ذخیرے کو اپنے لیے سیکیورٹی خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی مذاکرات میں امریکا 6 ارب ڈالر تک کی محدود مالی سہولت دینے پر آمادہ تھا، جس کا مقصد ایران کو بنیادی ضروریات جیسے خوراک اور ادویات کی خریداری میں مدد فراہم کرنا تھا، تاہم ایران نے اس کے مقابلے میں 27 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا۔ موجودہ بات چیت میں 20 ارب ڈالر کی درمیانی رقم زیر غور ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ تجویز واشنگٹن کی جانب سے پیش کی گئی ہے، جبکہ دوسرے اہلکار نے واضح کیا کہ ’رقم کے بدلے یورینیم‘ کا معاملہ کئی نکات میں سے ایک ہے اور حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

مذاکرات کے دوران امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا جوہری مواد ملک سے باہر منتقل کرے، تاہم ایران نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے صرف اپنے ملک کے اندر ہی یورینیم کو کم افزودہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایک متبادل تجویز کے تحت زیادہ افزودہ یورینیم کسی تیسرے ملک منتقل کرنے اور باقی ذخیرے کو بین الاقوامی نگرانی میں کم افزودہ کرنے پر بھی غور جاری ہے۔

مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری افزودگی کو رضاکارانہ طور پر محدود کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ امریکا اس پابندی کو 20 سال تک بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ ایران نے 5 سال کی مدت تجویز کی ہے، جس پر اب بھی اختلاف برقرار ہے۔

مزید برآں، معاہدے کے تحت ایران کو طبی اور تحقیقی مقاصد کے لیے نیوکلیئر ری ایکٹرز رکھنے کی اجازت ہوگی، تاہم شرط ہوگی کہ تمام تنصیبات زمین کے اوپر ہوں گی اور موجودہ زیر زمین سہولیات غیر فعال رکھی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز سے متعلق نکات بھی شامل ہیں، تاہم اس حوالے سے بھی اختلافات برقرار ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ آیا ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں سے متعلق معاملات اس مسودے کا حصہ ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم کسی بھی حتمی اعلان سے قبل تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جائیں گی۔