حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا میں شدید مالی بحران: سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن خطرے میں پڑ گئیں Home / پاکستان /

خیبر پختونخوا میں شدید مالی بحران: سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن خطرے میں پڑ گئیں

ایڈیٹر - 16/04/2026
خیبر پختونخوا میں شدید مالی بحران: سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن خطرے میں پڑ گئیں


پشاور : صوبہ خیبر پختونخوا کو اس وقت حالیہ تاریخ کے بدترین مالی بحران کا سامنا ہے، جس کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی ادائیگیوں کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے مالی بحران کے پیشِ نظر سخت اقدامات اٹھانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

 

  • 150 ارب روپے کا مالی دباؤ: محکمہ خزانہ کے مطابق صوبے پر اس وقت 150 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ ہے، جس کی وجہ سے صوبائی خزانہ خالی ہونے کے قریب ہے۔
  • وفاق کو تحفظات سے آگاہی: صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کو اپنی تشویشناک مالی صورتحال کے بارے میں تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر وفاق نے فوری مالی مدد فراہم نہ کی تو آنے والے مالی سال کا بجٹ بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
  • سخت اقدامات کی تیاری: مالی بحران سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے ہنگامی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن میں اخراجات میں کٹوتی اور ترقیاتی فنڈز کو منجمد کرنے جیسے سخت اقدامات شامل ہیں۔
  • ملازمین میں بے چینی: تنخواہوں اور پنشن میں ممکنہ تاخیر کی خبروں نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور اس حوالے سے آج ایک اہم اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔


خیبر پختونخوا کی معاشی صورتحال گزشتہ کئی ماہ سے ابتر ہوتی جا رہی ہے، جس کی بڑی وجہ وفاق سے فنڈز کی عدم فراہمی اور صوبے کے اپنے وسائل میں کمی بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو صوبے میں انتظامی ڈھانچہ مفلوج ہونے کا خطرہ ہے۔