پشاور: خیبرپختونخوا سے خالی ہونے والی سینیٹ نشست کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر امیدوار کے انتخاب پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جس نے پارٹی کے اندرونی معاملات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
یہ نشست پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی، جس پر پولنگ 23 اپریل کو متوقع ہے۔ صوبائی اسمبلی میں واضح اکثریت کے باعث یہ نشست بظاہر پی ٹی آئی کے لیے آسان سمجھی جا رہی ہے، تاہم ٹکٹ کے معاملے نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے فیض الرحمن کو ٹکٹ دینے پر غور کر رہی ہے، جبکہ کارکنان اور تنظیمی سطح پر بڑی تعداد پشاور کے عرفان سلیم کی حمایت میں سامنے آ گئی ہے، جنہیں ایک دیرینہ اور نظریاتی کارکن قرار دیا جا رہا ہے۔
پارٹی کے اندر اس معاملے پر سیاسی قیادت بھی تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے عندیہ دیا ہے کہ اصولی مؤقف کے برخلاف کسی مالی حیثیت رکھنے والے امیدوار کو ترجیح دی گئی تو وہ خاموشی توڑ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو نظریاتی وابستگی اور مصلحت کے درمیان واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔
اسی طرح رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے بھی بالواسطہ طور پر عرفان سلیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ نشست کے لیے ایک کارکن کو موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی بااثر یا مبینہ طور پر بیرونی حمایت یافتہ امیدوار کو آگے لایا گیا تو وہ اس پر کھل کر مؤقف اختیار کریں گی۔
دوسری جانب پارٹی کے اندر ٹکٹ کے فیصلے کے لیے ایک خصوصی بورڈ بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ ذمہ داری اجتماعی طور پر طے کی جا سکے، تاہم صوبائی صدر جنید اکبر نے ایسے کسی بورڈ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے، جسے وہ محض رسمی اقدام قرار دے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سینیٹ کی اس نشست پر ٹکٹ کا فیصلہ نہ صرف پارٹی کے اندرونی اتحاد بلکہ آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔