حایفہ میں تازہ راکٹ حملوں کے بعد صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے بھی کر دی ہے۔ حملوں کا رخ شمالی اسرائیل کی جانب تھا، جہاں حیفہ اور اس کے اطراف کے علاقے متاثر ہوئے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے طبی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم از کم 6 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں بعض شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار بھی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق ایک شہری دھماکوں کے باعث اڑنے والے ملبے اور پتھروں کی زد میں آ کر زخمی ہوا، جبکہ حملے سے عمارتوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
حیفہ کو اسرائیل کا ایک اہم اور حساس شہر تصور کیا جاتا ہے، جہاں بڑی آبادی کے ساتھ ساتھ اہم صنعتی تنصیبات بھی موجود ہیں۔ یہی شہر ملک کی بڑی آئل ریفائنری کا مرکز ہے، جو اسرائیل کی مجموعی تیل صاف کرنے کی صلاحیت کا بڑا حصہ سنبھالتی ہے۔ اگرچہ حالیہ حملے میں یہ تنصیب محفوظ رہی، تاہم جاری کشیدگی کے دوران اسے ماضی میں بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مختلف حملوں کے نتیجے میں 148 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مزید برآں، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 6 ہزار 594 افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔