عید الاضحیٰ پر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کا جامع سیکیورٹی پلان تیار، آئی جی کی افسران کو الرٹ رہنے کی ہدایت
صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ بھر میں عید الاضحیٰ کے مقدس موقع پر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اور فول پروف سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں آئی جی خیبر پختونخوا اختر حیات خان کی زیرِ صدارت سنٹرل پولیس آفس (CPO) پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں عید کی مناسبت سے صوبے کی موجودہ امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سیکیورٹی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز محمد علی بابا خیل، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ کاشف عالم، ہیڈ کوارٹرز عباس احسن، سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید، ڈی آئی جی آپریشنز شاکر حسین داوڑ اور اے آئی جی آپریشنز تیمور خان نے بالمشافہ شرکت کی۔ اس کے علاوہ صوبے کے تمام ریجنل پولیس چیفس (آر پی اوز) اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران (ڈی پی اوز) بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔ آئی جی پی نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ عید کی خوشیوں کے ان ایام میں عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر تمام ریجنل اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ہائی الرٹ رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ پلان کے مطابق تمام سیاسی قیادت اور سرکاری حکام کی حفاظت کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جائیں گے اور سینئر افسران خود سیاسی قائدین سے رابطہ کر کے انہیں سیکیورٹی امور پر اعتماد میں لیں گے۔ مزید برآں، مذہبی قائدین کی رہائش گاہوں کی سیکیورٹی آڈٹ کی روشنی میں مکمل سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔ آئی جی پی نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ عید کے ایام میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی کو ہر صورت ترجیح دی جائے، جبکہ صوبے کے سیاحتی مقامات پر آنے والے سیاحوں کی سہولت کے لیے 'ٹورسٹ فیسیلیٹیشن سینٹرز' کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے۔ آر پی او ڈی آئی خان کو ہدایت کی گئی کہ وہ بلوچستان حکام کے ساتھ مل کر چھٹیوں پر جانے والے افسران کی حفاظت کے لیے مربوط سیکیورٹی نظام بنائیں۔
عوام کو محفوظ احساس دلانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور اہم شاہراہوں پر پولیس کی گشت بڑھانے اور 'پی آر یو' گاڑیوں کے ذریعے اسنیپ چیکنگ کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی پلان کے تحت ہوائی فائرنگ، ٹیرر فنانسنگ (دہشت گردی کی مالی معاونت) اور مویشی منڈیوں میں غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ عید کی نماز کے موقع پر تمام مساجد، عیدگاہوں اور امام بارگاہوں کے داخلی راستوں پر جسمانی تلاشی اور چھتوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ آئی جی پی نے تمام ایس ایچ اوز اور فیلڈ افسران کو پابند کیا ہے کہ وہ خود فیلڈ میں موجود رہیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر تمام تصفیہ طلب معاملات کا فوری حل نکالیں۔ انہوں نے پولیس فورس کو تاکید کی کہ وہ فرض شناسی کے ساتھ اپنی حفاظت اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔