حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز میں کشیدگی نئی انتہا پر، امریکا کی بحری ناکہ بندی بحال، ایران پر شدید حملے، خطے میں جنگ پھیلنے کا خدشہ Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز میں کشیدگی نئی انتہا پر، امریکا کی بحری ناکہ بندی بحال، ایران پر شدید حملے، خطے میں جنگ پھیلنے کا خدشہ

ایڈیٹر - 15/07/2026
آبنائے ہرمز میں کشیدگی نئی انتہا پر، امریکا کی بحری ناکہ بندی بحال، ایران پر شدید حملے، خطے میں جنگ پھیلنے کا خدشہ

ویب  ڈیسک : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکا نے ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی راستوں کی جانب آنے جانے والی بحری سرگرمیوں پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے بحری ناکہ بندی نافذ کر دی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام امریکی وقت کے مطابق شام چار بجے سے مؤثر ہو چکا ہے، جس کے تحت ایران کے علاوہ دیگر ممالک کے تجارتی جہازوں کو مخصوص بحری راستوں سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ایرانی فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے بیس سے زائد بڑے جنگی بحری جہاز اور سیکڑوں فوجی طیارے مختلف عسکری کارروائیوں میں شریک ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حملوں کے بعد ایران کے مختلف علاقوں، جن میں قشم، ہنگام، بمپور، بندر عباس، کیش، ہرمزگان اور سیرک شامل ہیں، متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیش جزیرے پر ہونے والی کارروائی میں ایران کی کئی کشتیاں تباہ ہو گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تہران کو سخت پیغام دیا۔ انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے "فاکس نیوز" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ توانائی کے مراکز کو فی الحال نشانہ نہیں بنایا گیا، تاہم اگر ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع نہ کیے تو آئندہ ہفتے بجلی گھروں اور پلوں پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی مذاکرات کار ایرانی حکام کو واضح طور پر آگاہ کر چکے ہیں کہ موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے معاہدہ ہی بہترین راستہ ہے۔

ادھر بین الاقوامی انسانی قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشن، جنگ کے دوران عام شہریوں کی بنیادی ضروریات سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ممانعت کرتے ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سرکاری ٹیلی ویژن سے خطاب میں کہا کہ اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ فوجی دباؤ اور معاشی ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی سنگین غلط فہمی ہے۔

ایرانی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ حالیہ لڑائی کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا گیا ہے۔ ایران کے مطابق جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً بیس فیصد خام تیل کی ترسیل اسی اہم بحری گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

ایران کا مؤقف ہے کہ گزشتہ ہفتے دوبارہ بھڑکنے والی لڑائی نے جون میں ہونے والے عارضی جنگ بندی معاہدے کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے، جبکہ اس تنازع میں اب تک ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

دوسری جانب کشیدگی خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ گئی ہے۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کی صبح اردن میں واقع امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پاسداران انقلاب نے بحرین اور کویت میں موجود ہتھیاروں کے گوداموں پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

کویتی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کو ناکام بنایا اور حملوں کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران نے سات تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں متعدد ملاح ہلاک یا لاپتا ہوئے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دو تیل بردار جہاز ایرانی میزائل حملوں کی زد میں آئے، جن میں ایک بھارتی ملاح ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال نے عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خام تیل کی قیمت میں تقریباً پندرہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی بیرل قیمت پچاسی امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو دنیا کے مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔