حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ کا 50واں اجلاس، وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی صدارت میں ویڈیو لنک کے ذریعے صوبائی وزراء، اعلیٰ حکام کی شرکت Home / پاکستان /

پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ کا 50واں اجلاس، وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی صدارت میں ویڈیو لنک کے ذریعے صوبائی وزراء، اعلیٰ حکام کی شرکت

ایڈیٹر - 03/04/2026
پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ کا 50واں اجلاس، وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی صدارت میں ویڈیو لنک کے ذریعے  صوبائی وزراء، اعلیٰ حکام کی شرکت

پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ کا 50واں اجلاس وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی صدارت میں ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، اعلیٰ حکام اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے جبکہ مہنگائی کا اثر اب متوسط طبقے تک بھی پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وقتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی اور مؤثر معاشی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود عوامی ریلیف کے لیے اقدامات جاری ہیں، جن میں کسانوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی پیکیجز شامل ہیں، جبکہ دیگر طبقات کے لیے بھی جلد اقدامات متوقع ہیں۔ انہوں نے وفاق سے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور این ایف سی کے تحت مکمل حصہ دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔

اجلاس میں متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی، جن میں ضم شدہ اضلاع میں جدید یونیورسٹی کے قیام، تعلیمی اداروں میں عملے کی کمی دور کرنے کے لیے پالیسی سازی، صحت کے شعبے میں گرانٹس، نرسوں کی نئی بھرتیاں اور میڈیکل اداروں کی بہتری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کفایت شعاری کے تحت غیر ضروری اسامیوں کے خاتمے، سرکاری اخراجات میں کمی اور سینئر افسران کی تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔

کابینہ نے کھیل، تعلیم اور سماجی بہبود کے مختلف منصوبوں کے لیے فنڈز کی منظوری دی، جبکہ مون سون سیزن اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے حکمت عملی کی منظوری بھی دی گئی۔

حکام کے مطابق یہ فیصلے صوبے میں عوامی سہولیات کی بہتری، مالی نظم و ضبط اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔