پشاور — گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی حکمت عملی سے لگتا ہے کہ وہ اپنے بانی کی گرفتاری کو سیاسی فائدے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق خود پی ٹی آئی کے بعض رہنما بھی اس تاثر کا اظہار کر چکے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت اندرونی طور پر کمزور ہے اور اہم پارلیمانی فیصلوں پر اتفاق رائے نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں "کفن باندھنے والی فورس" کی غیر موجودگی کا ذکر کیا اور سہیل آفریدی کی گمشدگی پر سوال اٹھایا۔
گورنر نے امن و امان کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ صحت کے شعبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جدید طبی سہولیات کا فقدان ہے۔
بین الاقوامی امور پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور سفارتکاری کے ذریعے ملک کا مثبت تشخص ابھر رہا ہے۔ افغانستان سے متعلق انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان حکومت وعدوں پر پورا نہیں اتری اور دہشت گردی میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔
طورخم بارڈر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اسے فی الحال صرف افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھولا جا رہا ہے، جبکہ مکمل بحالی کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔