تل ابیب — اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے حکومتی حلقوں کو ایک غیر معمولی اور سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل بڑھتے ہوئے داخلی و عسکری دباؤ کے باعث فوجی ڈھانچہ سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ کے ایک اہم اجلاس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی دفاعی افواج اس وقت بیک وقت کئی محاذوں پر سرگرم ہیں، جن میں غزہ، لبنان، شام اور مقبوضہ مغربی کنارہ شامل ہیں، جس کے باعث وسائل اور افرادی قوت پر شدید دباؤ ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ فوجی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دستیاب وسائل اس رفتار کا ساتھ دینے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مغربی کنارے میں متنازعہ چوکیوں کے قیام اور توسیع کے اقدامات نے بھی فوجی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ایال ضمیر نے آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے فوج کو اضافی دستے تعینات کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار نظام مزید بوجھ تلے آ گیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ حکومت اب تک بھرتیوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون سازی نہیں کر سکی، جس میں الٹرا آرتھوڈوکس کمیونٹی کی شمولیت، ریزرو فورسز کی دستیابی اور لازمی فوجی سروس کی مدت میں توسیع جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔
فوجی سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں فوج کے لیے معمول کی آپریشنل تیاری اور استعداد کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، جو سیکیورٹی کے مجموعی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔