اسلام آباد میں عیدالفطر کے موقع پر جدید فائیو جی انٹرنیٹ سروس کے آغاز کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں وفاقی دارالحکومت کے مخصوص علاقوں میں صارفین کو انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت میسر آ سکے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں 5G ٹیکنالوجی کے نفاذ کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنے کے عمل کو حتمی شکل دے دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام بڑی کمپنیوں کو بیک وقت لائسنس جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد وہ عیدالفطر پر اپنی سروسز کا آغاز کر سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، ٹیلی کام کمپنیوں نے لائسنس کے حصول کے لیے درکار بینک گارنٹیز جمع کرا دی ہیں۔ ہر کمپنی کو 5G سپیکٹرم کے حصول کے لیے تقریباً 15 ملین ڈالر کی ضمانت فراہم کرنا ہوگی، جبکہ لائسنس کی شرائط پر عملدرآمد بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ نئی ٹیکنالوجی کے نفاذ کے تحت ہر کمپنی کو ملک بھر میں کم از کم 1000 نئی ٹیلی کام سائٹس قائم کرنا ہوں گی، جن میں سے 200 سائٹس دور دراز اور کم کوریج والے علاقوں میں لگانا لازمی ہوگا تاکہ ملک کے پسماندہ علاقوں کو بھی جدید انٹرنیٹ سہولت فراہم کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، حال ہی میں 5G سپیکٹرم کی نیلامی کا عمل مکمل کیا گیا، جس میں دستیاب 597 میگا ہرٹز میں سے 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم فروخت کیا گیا۔ اس نیلامی سے حکومت کو تقریباً 510 ملین ڈالر کا ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق 5G سروس کے آغاز سے نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی نئی راہیں کھلیں گی، جبکہ شہریوں کو عیدالفطر کے موقع پر تیز ترین کنیکٹیویٹی کا منفرد تجربہ حاصل ہوگا۔