بھیک مانگنا اب ایک منظم پیشہ بن چکا ہے اور بھیک مانگنے کا کاروبار ملک میں سب سے زیادہ ’’روزگار‘‘ فراہم کر رہا ہے۔ خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بھیک مانگنا اب ایک منظم پیشہ بن چکا ہے اور بھیک مانگنے کا کاروبار ملک میں سب سے زیادہ ’روزگار‘ فراہم کر رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھیک مانگنے کے لیے اب باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں، ٹھیکیدار بچوں، خواتین اور جعلی معذور افراد کو بھرتی کرکے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہی ٹھیکیدار مافیا انہی بھکاریوں کو ہزاروں کی تعداد میں خلیجی ممالک بھیج رہا ہے، یہ خلیجی ممالک ناراض ہو گئے ہیں اور ہمارے ویزے بند کر دیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں پر مختلف محکموں کا عملہ اس گھناؤنے کام میں ملوث ہے اور پیسہ کما رہا ہے۔ سیالکوٹ میں یہ لوگ زیادہ تر جنوبی پنجاب سے آتے ہیں اور ہوٹلوں میں رہ کر کاروبار کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کی حالیہ کارروائیوں سے اس گھناؤنے کاروبار میں کمی آئی ہے لیکن ان کارروائیوں کے باوجود بھکاریوں کی موجودگی نظر آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں بظاہر خوشحال لوگ ان بھکاریوں کے ٹھیکیدار ہیں اور جب بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو یہ ٹھیکیدار سفارشی بن کر آتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ گھناؤنا کاروبار ملک میں سب سے زیادہ ’روزگار‘ فراہم کر رہا ہے، انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر یہ کاروبار کسی بھی شہر میں نہیں ہو سکتا، اس کاروبار سے بہت سے دوسرے انتہائی گھناؤنے کاروبار وابستہ ہیں۔