عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے 8 فروری کے احتجاج اور ہڑتال کی کال کو فلاپ شور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے این پی کی صورت حال کا جائزہ ایک اہم سیاسی حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔
پارٹی میں عوامی مقبولیت کے تمام عوامل موجود ہیں، پختون علاقوں میں قومی شناخت اور حقوق کی نمائندگی کا احساس ہو یا خان عبد الغفار خان ( با چا خان ) کی عدم تشدد اور سماجی خدمت کی روایت قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں پر واضح موقف ہو
خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امریکی پالیسیوں پر تنقیدی رو یہ صوبائی حکومتوں کے دور میں خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات یہ اسٹیلشمنٹ میں محدود قبولیت کے اسباب ہیں صوبائی خود مختاری اور وسائل کے حوالے سے مرکز کے اختیارات کو چیلنج کرتی ہے،
اے این پی روایتی خارجہ پالیسی سے ہٹ کر مختلف موقف اختیار کرتی ہے، فوجی، سیاسی توازن کے موجودہ ڈھانچے کوسوالات کے گھیرے میں لانا ہمارا بیانیہ ہے جسکی وجہ سے ہمیں مقبولیت کے باوجود جائز مقام نہیں دیا جاتا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کاٹلنگ میں افتخار خان کے برخوردار امان الملک کے شادی تقریب میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان کی سیاسی استحکام اور جمہوری ارتقا کیلئے ضروری ہے کہ عوامی مقبولیت رکھنے والی تمام سیاسی قوتوں کو مناسب قبولیت اور سیاسی عمل میں موثر شرکت کا موقع ملے ، تاکہ ملک کی تمام آوازیں قومی فیصلہ سازی میں اپنا کردار ادا کر سکیں ، انہوں نے اور وزیر اعلیٰ کی وزیر اعظم سے ملاقات کو ٹوپی ڈرامہ قرار دیا۔