سابق وزیر اعلیٰ اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سیاست عبادت ہے مگر پاکستان میں سیاست غلاظت کا ڈھیر بن چکا ہے سیاست وہ کرتے ہیں جو قبول ہے مگر مقبول نہیں اور جو مقبول ہے وہ قبول نہیں،
اور اسی سیاست نے ملک اور خصوصاً خیبر پختونخوا کو بہت پیچھے دھکیل دیا وزیر اعلیٰ احتجاج کی بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ دیں یہ سال سیاست میں بہت اہمیت کا حامل ہے اس سال قصہ آریا پار ہو جائیگا
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ہا تھیان حجرہ خالد خان میں اے این پی کی تحصیل کونسل اجلاس سے اپنے خطاب میں کیا جس کی صدارت سابق ایم پی اے حاجی بہادر خان کر رہے تھے اجلاس سے اے این پی کے ضلعی صدر عمران ماندوری تحصیل صدر میاں نصر اللہ ، جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر اختر اقبال یوسلو کی سابق ایم پی اے حاجی بہادر خان ، میاں طاہر ایڈوکیٹ حاجی فاروق اکرم خان ایوب یوسف زئی اور دیگر نے بھی خطاب کیا
انہوں نے کہا کہ حقیقت میں سیاست ختم ہو چکی ہے جمہوری نظام ہائبرڈ نظام بن چکا ہے سیاسی فیصلے سیاست دان نہیں کہیں اور ہوتے ہیں
وزیر اعلی پختونخواہ نے وزیر اعظم سے ملاقات کر کے عشق عمرانی کو دفن کیا تحصیل کونسل تخت بھائی کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے
انہوں نے کہا کہ کارکن اے این پی کا قیمتی سرمایہ ہے پارٹی انٹرا الیکشن جمہوری عمل ہے کارکن تمام اختلافات بھلا کر پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائے اور پارٹی تنظیمیں نچلی سطح تک لے جائے مستقبل ایک بار پھر اے این پی کا ہے
انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں مقبول اور مضبوط سیاسی جماعت بن چکی ہیں اس موقع پر پارٹی کیلئے مثبت تجاویز پیش کی گئیں