پشاور ۔ پشاور ہائیکورٹ نے کالعدم تنظیم پی ٹی ایم پر پابندی کے خلاف دائر دورٹ پٹیشنز خارج کر دیں۔
پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین اور معصوم شاہ کی درخواستوں کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل بینچ نے دور کنی بینچ نے کی تھی۔
رٹ پٹیشن کی سماعت شروع کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا جبکہ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ثنا اللہ عدالت میں پیش ہوئے تھے درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے 16اکتوبر 2024 کو پی ٹی ایم پر پابندی لگائی گئی اور یہ ساری کاروائی کا بینہ نے ایک دن میں منظوری دی جو روانز کے خلاف ہے،
انہوں نے عدالت میں موقف اپنایا تھا کہ منظوری کا طریقہ کا ر غلط تھا جبکہ وفاقی کابینہ کے دس میں سے آٹھ ممبران نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا تھا دلائل کے دوران انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت پابندی کی وجوہات بھی نہیں بتا رہی کہ پی ٹی ایم کو کالعدم تنظیم کیوں قرار دیا گیا،
انہوں نے کہا کہ جن وجوہات پر اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا وہ بھی نہیں بتائے گئے یہ دہشتگردی میں ملوث ہونے کے الزامات لگا رہے ہیں لیکن وجوہات اور ثبوت نہیں بتا رہے ۔
وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ پی ٹی ایم ایک تنظیم ہے کوئی سیاسی پارٹی نہیں جس کو رجسٹریشن کی ضرورت ہو۔
ایڈیشنل آٹارنی جنرل ثنا اللہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ پہلے معصوم شاہ نے درخواست دی اور کہا کہ پی ٹی ایم کا سر براہ میں ہوں، پھر منظور پشتین نے درخواست دی اور کہا کہ پی ٹی ایم کا سربراہ میں ہوں،
پہلے یہ بتائیں پی ٹی ایم کی نمائندگی کون کرتا ہے وجوہات یہ ہیں کہ پی ٹی ایم رہنما اپنے اجتماعات میں پاکستان کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں یہ دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں،
انہوں نے سوشل میڈ یا پر ریاست کے خلاف مہم چلائی نو جوانوں میں حکومت پاکستان کے خلاف بد اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی پی ٹی ایم اگر خود کو تنظیم کہتی ہے تو یہ رجسٹر ڈ کیوں نہیں ہے
انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم اگر پارٹی ہے تو یہ ای سی پی کے پاس خود کو کیوں رجسٹر ڈ نہیں کرتی اگر ان کو حکومت پاکستان سے مسئلہ ہے تو آئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں،
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر رٹ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا گزشتہ روز جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے مختصر حکم جاری کرتے ہوئے دونوں درخواستیں خارج کر دی اور وفاقی حکومت کا فیصلہ درست قرار د ید یا جبہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔