اسلام آباد۔ سینٹ کی خزانہ کمیٹی کو گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا ہے کہ بہترین سکیورٹی فیچرز والے کرنسی نوٹ ڈیزائن منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کو بھجوائے گئے ہیں،
کمیٹی نے نجی بنکوں کی جانب سے ایس ایم ایس الرٹ سسٹم کی فیس چارج کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کا اجلاس چیر مین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا،
اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹر اور نگزیب سمیت سٹیٹ بنک حکام اور دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں ایس ای اوز اور ریگولیٹری باڈیز کے سربراہان سے متعلق امور، ایف بی آر کے ایس ایم ایس پیغامات سے پیدا ہونے والے مالیاتی رازداری کے خدشات، بجٹ کی مختص رقم اور وزارت خزانہ کے پی ایس ڈی پی، اسٹیٹ بینک آف ایس ایم ایس کے ذریعے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایس ایم ایس کے ذریعے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایس ایم ایس پیغامات صرف رجسٹر ڈ بینک اکانٹ ہولڈرز کو بھیجے گئے اور اس کے نتیجے میں ٹیکس کی وصولی میں بہتری آئی ہے
انہوں نے ایس ایم ایس کی وجہ سے، مالی رازداری کی کسی بھی خلاف ورزی کی واضح طور پر تردید کی کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ بجٹ کا اجرا اب سہ ماہی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے اور اس کا استعمال تسلی بخش انداز میں جاری ہے۔
تا ہم کئی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کمیٹی کو بتایا گیا کہ 20 ارب روپے سے زائد مائیکروفنانس اداروں کے ذریعے خواتین کو 20 فراہم کیے گئے ہیں۔
کمیٹی نے پیشرفت کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ ایک الگ تفصیلی بریفنگ کا اہتمام کیا جائے۔
اجلاس میں کمیٹی کو پاکستان منٹ اور AIMS کی اپ گریڈیشن سمیت دیگر منصوبوں پر بریفنگ بھی دی گئی جس کا مقصد وفاقی آڈٹ کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ جو سکے زیر گردش ہیں اور انہیں بند نہیں کیا گیا ہے۔ بزنس کمیونٹی کو در پیش چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے کمیٹی نے بزنس فرینڈلی پالیسیاں اپنانے کی سفارش کی۔
وزیر خزانہ نے کاروبار کو کمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور اس سلسلے میں حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں سپر ٹیکس کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کیلئے کیس ٹوکیس سہولت کی یقین دہانی کرائی۔