ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے سڑکیں اور اسپتال بنا کر سیاسی ڈکٹیٹر اپنے نام کی تختی اور تصویریں کیوں لگاتے ہیں؟ اپنی نااہلی کی وجہ سے مرنے والوں کو کروڑوں روپے کا معاوضہ یہ اپنی جیب سے دیتے ہیں جو یہ خود ہیرو بن کر خبریں چلواتے ہیں۔ ان کے جعلی احسانوں سے نکلیں، اپنے اقتدار کے لیے دی گئی ان کی قربانیوں کے بوجھ سے باہر آئیں۔
اس ملک کے عام آدمی اور مڈل کلاس نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع دیں، عوام کی قسمت تب بدلے گی جب “عوام راج” لگے گا۔ ورنہ ان امیرزادوں کی تختیاں اور تصویریں ہی بدلتی رہیں گی۔
پروٹوکول میں گھومنے والے یخ راتوں میں کھانا ڈلیور کرتے ہوئے رائیڈرز کے مسائل کیسے حل کر سکتے ہیں؟
جب تک مڈل کلاس کے لوگ راہنما نہیں بنیں، مڈل کلاس کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ عام آدمی کے مسائل کا حل صرف “عوام راج” ہے۔