وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا (کے پی) حکومت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا اور نہ ہی نقل مکانی کی وجہ کوئی آپریشن ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہر سال برفباری کے دوران نقل مکانی ہوتی ہے، وہاں آپریشن کا گمان ہوتا ہے، وادی تیراہ سے متعلق معاملات صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت سے طے ہوئے، جبری بے گھری کی جا رہی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ذمہ دار فوج یا کسی ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا کوئی وجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں کالعدم ٹی ٹی پی کے 500 افراد موجود ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ وہاں رہتے ہیں۔ یہ معاہدہ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان ہوا۔ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ صوبائی حکومت نے بے گھر افراد کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ وادی تیراہ میں 12 ہزار ایکڑ پر بھنگ کاشت کی جاتی ہے، اس فصل سے 35 لاکھ روپے فی ایکڑ کما رہے ہیں اور یہی اصل تنازع ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے خیبرپختونخوا کے کوآرڈینیٹراختیار ولی نے کہا کہ وہ یہ منصوبے بنا کر پیسہ نکالتے ہیں اور انہیں سڑکوں پر چلنے میں لگاتے ہیں۔ دولت بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت اور پاک فوج کا اس منصوبے سے کوئی تعلق نہیں۔