حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ہم کرسی نہیں عوام کے دلوں پر راج کرنا چاہتے ہیں ایمل ولی خان Home / سیاست /

ہم کرسی نہیں عوام کے دلوں پر راج کرنا چاہتے ہیں ایمل ولی خان

ایڈیٹر - 24/01/2026
ہم کرسی نہیں عوام کے دلوں پر راج کرنا چاہتے ہیں ایمل ولی خان

چارسدہ ۔ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی با چا خان اور خان عبدالولی خان کی برسی کے موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام جلسے کا انعقاد کیا گیا،

جس میں ہزاروں کی تعداد میں پارٹی کارکنوں اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جلسے سے اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سینئر نائب صدر سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی صوبائی صدر میاں افتخار حسین ضلعی صدر شکیل بشیر خان عمرزئی جهز الدین اور دیگر نے خطاب کیا۔

جبکہ پارٹی کے مرکزی و صوبائی رہنما بھی موجود تھے ایمل ولی خان نے کہا کہ آج کے جلسے نے ثابت کر دیا کہ باچا خان بابا کی تحریک آج بھی زندہ ہے اور اے این پی پختون قوم کی تاریخ اور جدوجہد سے جڑی ہوئی جماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی اقتدار یا کرسی کی نہیں بلکہ عوام کے دلوں پر راج کرنے کی خواہاں ہے۔

انہوں نے موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پختون قوم لاوارث ہو چکی ہے اور خیبر و تیراہ میں پختونوں کی بے بسی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔

ایمل ولی خان نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کا مسئلہ آپریشن ہے تو اے این پی اسے مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ آپریشن بند کر کے بے گھر عوام کو واپس ان کے گھروں کو بھیجا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا حل صرف آپریشن نہیں، ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گرد کون ہیں اور کون اسٹریٹیجک اثاثے سمجھے جارہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن لوگوں نے دہشت گردی کو جہاد کا نام دیا ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو سخت سزا دی جائے۔

ایمل ولی خان نے جنرل) ( قمر جاوید باجوہ، فیض حمید سابق صدر عارف علوی اور عمران خان کو دہشت گردوں کو لانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہیں قوم کا مجرم قرار دیا اور کہا کہ اے این پی ریاست سے امن چاہتی ہے،

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے مسائل اور معاملات میں پاکستان کو عزہ بورڈ آف ہیں کے معاملے سے دور رہنا چاہیے اور فلسطین کا مسئلہ فلسطینی عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج پختونوں پر تجارت بند ہے، بھارت کے ساتھ تجارت جاری ہے مگر افغانستان کے ساتھ بندش ہے، جبکہ بارڈر بند کرنے سے دہشت گردی نہیں رک سکی۔