باجوڑ : جماعت اسلامی نے مولانا وحید گل کے گھر پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے امن و امان کی صورتحال پر حملہ قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے دھماکے کے مقام پر مولانا وحید گل کے حجرے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کو محض ایک عام واقعہ سمجھنے کے بجائے ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے اصل ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عنایت اللہ خان نے کہا کہ ایسے واقعات عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور قبائلی اضلاع میں امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو محض بیانات پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔صوبائی امیر نے قبائلی اضلاع میں جاری سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی رضامندی کے بغیر کسی بھی علاقے میں کوئی آپریشن ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں جاری کارروائیاں دراصل صوبائی حکومت کی اجازت اور مشاورت سے ہو رہی ہیں، اس لیے حکومت اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی .
انہوں نے مزید کہا کہ بدامنی کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی، مؤثر انٹیلی جنس نظام اور عوام کے اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔ جماعت اسلامی ہر اس اقدام کی حمایت کرے گی جو امن کے قیام اور بے گناہ شہریوں کے تحفظ کے لیے اٹھایا جائے، تاہم بے جا طاقت کے استعمال اور عوام کو دیوار سے لگانے کی پالیسی کی مخالفت کی جائے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا وحید گل ،حاجی سردار خان پروفیسر عبد الرقیب اور کارکنان بھی موجود تھے، جنہوں نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔
باجوڑ: جماعت اسلامی کے نائب امیر باجوڑ مولانا وحید گل کے گھر کے باہر بم دھماکہ