مگر افسوس کہ آج 75 برس گزرنے کے باوجود یہ قرارداد فائلوں میں دفن ہے اور کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہمارا قومی فریضہ ہے۔
ایک آزاد ملک وینزویلا کے صدر کو اس کے آفس سے اغوا کر کے امریکہ لے جانا کھلی عالمی دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
امریکی صدر کی پالیسیاں پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ بن چکی ہیں، بلکہ خود امریکہ بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں۔
اگر اقوام متحدہ نے اس رویے کو نہ روکا تو کل کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔ مدارس ہمارے تہذیبی مراکز اور اسلام کے قلعے ہیں۔ اس کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
ملک میں جاری بدامنی ، دہشت گردی، مہنگائی، کرپشن، غربت، بے روزگاری، بے یقینی ، خوف قبل عام اور امریکی ملک کے تمام مسائل کا حل قرآن وسنت کے نظام میں ہے، اسلامی نظام کے قیام کیلئے جدو جہد ناگزیر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرک اور بنوں میں الگ الگ جلسہ ہائے دستار بندی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے سیکرٹری جنرل محمد ظہور خشک، نائب امیر مولانامحمد تسلیم اقبال، امیر ضلع کرک صدیق اللہ شاہین اور امیر ضلع بنوں مفتی عارف اللہ بھی موجود تھے،
جامعہ دار العلوم مفتاح العلوم ڈگرنزی کرک میں دستار بندی وختم بخاری شریف سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کیلئے گرینڈ میٹل ڈائیلاگ ناگزیر ہو چکا ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار کی جنگ چھوڑ کر غربت، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
سراج الحق نے کہا کہ ملکی حالات کو معمول پر لانے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو باہمی محاذ آرائی کے بجائے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختو نخوا کے عوام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی کشمکش میں بری طرح پس کر رہ گئے ہیں اور صوبے کو تجربہ گاہ بنا کر نت نئے تجربات کیے جارہے ہیں۔