پی ٹی آئی اور دفاعی اداروں کے درمیان تلخیاں کسی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔
دونوں فریقین کو نرمی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، تلخیوں میں کمی لانا اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل نکالنا چاہئے، ایک دوسرے کے خلاف مسلسل بیان بازی سے نہ صرف کشیدگی بڑھتی ہے بلکہ حالات مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں، ملک کے مجموعی مفاد میں ضروری ہے کہ نفرت کی آگ کو بجھا کر مفاہمت اور تعاون کی راہ اپنائی جائے،
ملک اس وقت سنگین معاشی و سیاسی چیلنجز کا شکار ہے، ایسے میں اتحاد، اتفاق اور یکجہتی کی ضرورت ہے، آپس کی محاذ آرائی اور دھینگا مشتی سے دشمن قوتوں کو تقویت جبکہ پاکستان کو نقصان ہی پہنچتا ہے، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنان اور اداروں کے ذمہ داران کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی کردار کشی سے گریز کریں، اشتعال انگیز، نفرت آمیز اور بے بنیاد بیانات سے اجتناب برتنا وقت کی اہم ضرورت ہے، میں نے ہمیشہ دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی ہے،
پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تمام تنازعات کا واحد اور بہترین حل بامعنی گفتگو، بردباری اور سیاسی فراست ہے، باہمی کشیدگی میں اضافے سے براہِ راست نقصان ملک اور عوام کو پہنچ رہا ہے، جسے روکنے کیلئے دانشمندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ بریسٹر سیف