حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
انڈیا کو 408 رنز سے شکست ، ایک سال کے وقفے سے دوسرا کلین سویپ Home / کھیل /

انڈیا کو 408 رنز سے شکست ، ایک سال کے وقفے سے دوسرا کلین سویپ

شہزاد فاروق

ایڈیٹر - 26/11/2025
انڈیا کو 408 رنز سے شکست ، ایک سال کے وقفے سے دوسرا کلین سویپ

ٹیم انڈیا جو کہ پچھلے سال نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے پہلے تک پچھلی ٹیسٹ چمپئن شپ کا فائنل کھیلنے کے لئے فیورٹ تھی، دو مسلسل سیریز شکستوں کے بعد اس فائنل میں نہ پہنچ سکی- انگلینڈ میں سیریز برابر کرنا شاندار کارکردگی تھی تو ویسٹ انڈیز کے خلاف 2-0 ایک روٹین کی کارروائی جس سے لگا کہ اب انڈین ٹیم ٹریک پر آ گئی لیکن جنوبی افریقہ کی ٹیم جو پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے حیران کر رہی ہے، ایک طویل عرصے بعد انڈیا میں سیریز جیتنے میں کامیاب رہی-

ٹیمبا باووما کچھ ایسے کارنامے انجام دے چکا جو گریم سمتھ اور ہینسی کرونئے جیسے بڑے کپتان اس سے بہتر ٹیموں کے ساتھ نہیں کر پائے تھے- باووما ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ میں ناقابل شکست ہے، آسٹریلیا کو ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں شکست دے چکا اور اب انڈیا میں کلین سویپ، شاید پاکستان کے خلاف باووما دستیاب ہوتا تو۔۔۔ چلیں چھوڑیں جو نہیں ہوا، جو ہوا اس پر بات کرتے ہیں

مسلسل دوسرا ٹیسٹ جہاں جنوبی افریقہ نے بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں انڈیا کو بری طرح شکست دی- کلکتہ میں میچ تھوڑا وقت چلا پر مقابلہ سخت تھا لیکن گوہاٹی میں پہلی اننگ میں جنوبی افریقہ کے بڑے سکور کے سامنے جیسے ہی انڈین بیٹنگ لائن نے گھٹنے ٹیکے، باقی جیسے معمول کی کاروائی بن کر رہ گیا- دوسری اننگ میں جنوبی افریقہ نے اننگ ڈیکلیئر کرنے میں تاخیر کی تو تھوڑا سا امکان پیدا ہوا تھا کہ شاید انڈین بیٹنگ میچ بچا پائے لیکن سدھارسن اور جدیجہ کے علاؤہ کوئی بھی بیٹسمین زیادہ دیر تک مزاحمت نہ کر سکا- پہلی اننگ میں جینسن کی رفتار اور باؤنس انڈین بیٹسمینوں کے لئے مسئلہ رہی تو دوسری اننگ میں یہی کام سائمن ہارمر کی آف سپن باؤلنگ نے پورا کر دیا- انڈین بیٹسمین کچھ ایسے کھیلے جیسے انڈین ٹیم نے یہ بیٹسمین انگلش ٹیم سے ادھار مانگ لئے ہوں ورنہ اخری اننگ میں سو اوورز کھیل پانا مشکل تو ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں اور اس پچ پر گیند بہت زیادہ تنگ بھی نہیں کر رہی تھی- گیند سپن ضرور ہوئی لیکن اسے روایتی رینک ٹرنر نہیں کہا جا سکتا اور ایک پچ جس پر جنوبی افریقہ کے باؤلنگ آل راؤنڈرز پہلی اننگ میں آرام سے کھیلے، سٹبس اینڈ کو نے دوسری اننگ میں سکون سے بیٹنگ کی، وہاں انڈین بیٹسمینوں کا اس طرح ڈھیر ہونا نہیں بنتا-

انڈیا میں گھمبیر کو ہٹانے کی باتیں، ٹیم سلیکشن میں آئی پی ایل کارکردگی پر زیادہ بھروسہ، مختلف کھلاڑیوں کو فیور دینے اور کچھ کھلاڑیوں کو مسلسل نظر انداز کئے جانے کی باتیں شکست سے پہلے ہی شروع ہو چکیں اور آگے زور بھی پکڑیں گی