حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
"گڈ" اور "بیڈ" کی تفریق ختم کی جائے۔ ہر دہشت گرد دہشت گرد ہے،میاں افتخار حسین۔ Home / سیاست /

"گڈ" اور "بیڈ" کی تفریق ختم کی جائے۔ ہر دہشت گرد دہشت گرد ہے،میاں افتخار حسین۔

ایڈیٹر - 12/11/2025

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین کا صوبائی اسمبلی میں منعقد "خیبر پختونخوا امن جرگہ" سے خطاب:

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کی اصل جڑیں ماضی میں ریاست کی جانب سے اختیار کی جانے والی جنگی معیشت، پراکسی پالیسیاں اور اسٹرٹیجک ڈیپتھ کے تصورات میں پیوست ہیں۔ جب تک یہ پالیسی ڈھانچے ختم نہیں ہونے، امن ایک خواب ہی رہے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی کا واضح مؤقف ہے کہ تمام غیر ریاستی اور متشدد تنظیموں کی سرپرستی ہمیشہ کے لیے بند کی جائے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر بلا امتیاز، مکمل اور مؤثر عمل درآمد کیا جائے۔ شدت پسندی اور عسکریت پسندی کو کسی مذہب، زبان یا خطے سے جوڑنا بند کیا جائے کیونکہ یہ تقسیم ہی دراصل بدامنی کی بنیادی وجہ ہے۔

"گڈ" اور "بیڈ" کی تفریق ختم کی جائے۔ ہر دہشت گرد دہشت گرد ہے، خواہ وہ کسی بھی صوبے یا مذہبی شناخت سے تعلق رکھتا ہو۔ شدت پسند تنظیموں کے مالی نیٹ ورکس، تربیتی مراکز اور سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور ریاستی و حکومتی سطح پر کسی شدت پسند نظریے کی سرپرستی نہ ہونے دینے کا عہد کیا جائے۔

بدامنی کے اثرات صرف جانی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اس نے خیبر پختونخوا کی معیشت، تعلیم، سیاحت اور معاشرتی ڈھانچے کو بھی تباہ کیا ہے۔ نوجوانوں میں مایوسی، بیروزگاری اور انتقام کا رجحان بڑھا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریاست کو اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لانی ہوگی۔

امن کے قیام کے لیے سب سے پہلے صوبائی حکومت کو اس عمل کی اونرشپ لینا ہوگی۔ پچھلے 13 سال سے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، مگر قیام امن کیلئے ہمیں وہ اقدامات دیکھنے کو نہیں ملے جو کہ حکومتی سطح پر ہونے چاہیئے۔2008 میں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت کے دوران دہشت گردی اپنی انتہا پر تھی، مگر ہم نے جرأت اور قربانی کے ساتھ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ مالاکنڈ ڈویژن میں جب مذاکرات کی ضرورت پیش آئی تو ہم نے نہ صرف مذاکرات کیے بلکہ ان کی مکمل ذمہ داری بھی قبول کی۔ تاہم، جب تحریکِ نفاذِ شریعت نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی اور حالات آپریشن تک جا پہنچے تو ہم نے صوبے اور وفاق دونوں سطحوں پر تمام سیاسی قوتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا۔ ہماری پالیسی واضح، دوٹوک اور اصولی تھی۔ اسی استقامت کا نتیجہ تھا کہ ہم نے نا صرف مالاکنڈ ڈویژن کو دہشت گردوں سے پاک کیا، بلکہ متاثرہ خاندانوں کی باوقار واپسی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کو بھی ممکن بنایا۔صوبے میں ہماری حکومت تھی، مذاکرات ہو یا آپریشن ہم نے اونرشپ لی اور ذمہ داری قبول کی۔ یہی سیاسی سنجیدگی امن کے قیام کی شرطِ اول ہے۔

صوبائی حکومت کو قوم کے سامنے واضح مؤقف اپنانا ہوگا۔ اگر ماضی میں غلطیاں ہوئیں تو ان کا اعتراف کیا جائے اور آئندہ کے لیے دوٹوک اور غیر مبہم پالیسی اختیار کی جائے۔ مرکز اور صوبے کو مشترکہ ذمہ داری قبول کر کے ایک جامع پالیسی بنانی ہوگی جس میں پارلیمان، تمام سیاسی قوتوں، سول سوسائٹی اور عوام کو شامل کیا جائے۔

امن و جمہوریت لازم و ملزوم ہیں۔ جب تک پالیسیوں کا محور منتخب پارلیمان نہیں بنتا، پائیدار امن ممکن نہیں۔ ریاستی اداروں کو اپنے آئینی کردار تک محدود کیا جائے۔ قومی سلامتی، داخلی و خارجی امورمنتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے طے ہوں تاکہ شفافیت اور عوامی اعتماد بحال ہو۔

عوامی نیشنل پارٹی کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ"ایکشن ان ایڈ آف سول پاور" جیسے غیر انسانی اور غیر جمہوری قوانین کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔موجودہ صوبائی اسمبلی نے اس کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی ہے، مگر عمل درآمد تاحال نہیں ہوا۔ صوبائی حکومت واضح اکثریت رکھتے ہوئے بھی اس قانون کو منسوخ کرنے سے گریزاں ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

خیبر پختونخوا کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے صوبائی حکومت کو ذاتی سیاست اور صوبے کے عوام کی جنگ میں واضح فرق کرنا ہوگا۔ مرکز سے محض ذاتی ایجنڈے کے تحت ٹکراؤ کی سیاست کے بجائے صوبے کے آئینی و مالی حقوق کے حصول کے لیے سنجیدہ، پارلیمانی اور آئینی جدوجہد اختیار کی جائے۔ صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ وہ صوبے کے آئینی، سیاسی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اور جرات مندانہ کردار ادا کرے۔ وفاق سے بجلی و گیس کی رائلٹیز اور دیگر واجبات کے حصول کے لیے تمام دستیاب فورمز پر بھرپور کوشش کی جائے تاکہ صوبے کے عوام کو ان کے جائز حقوق مل سکیں اور صوبہ پائیدار معاشی استحکام حاصل کر سکے۔

اسی طرح صوبائی حکومت کو نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء کے لیے ہنگامی بنیادوں پر وفاق کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔ اس عمل میں 25ویں آئینی ترمیم کے دوران ضم اضلاع کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے اور سالانہ 100 ارب روپے کے وعدے کی عملی تکمیل یقینی بنائی جائے تاکہ یہ اضلاع بھی قومی ترقی اور خوشحالی کے عمل میں برابر کے شریک بن سکیں۔

ضم اضلاع میں امن کا قیام تب ہی ممکن ہے جب وہاں سول اداروں کی عملداری بحال کی جائے۔ پولیس کو مکمل اختیارات دیے جائیں۔ بدامنی اور آپریشنز کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے آبائی علاقوں میں باوقار واپسی کو یقینی بنایا جائے، ان کو معاوضے دیئے جائیں اور متاثرہ علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار اور نفسیاتی بحالی کے پروگرام شروع کیے جائیں۔ شدت پسندی کا پھیلاؤ صرف بندوق سے نہیں بلکہ معاشی مواقع اور انصاف سے روکا جا سکتا ہے۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبائی خودمختاری پاکستان کے وفاقی نظام کی بنیاد اور جمہوری استحکام کی ضمانت ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنے یا اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوئی بھی کوشش دراصل صوبوں کے آئینی حقوق پر حملہ اور وفاق کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کے مترادف ہوگی۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وفاقی سطح پر اٹھنے والی ہر ایسی کوشش کے سامنے مضبوطی سے کھڑی ہو، صوبے کے مفادات اور اختیارات کا دفاع کرے اور اٹھارہویں ترمیم کے تحت حاصل کردہ مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات کے مکمل نفاذ کو یقینی بنائے۔

امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بھتہ خوری نے صوبے سے سرمایہ کاری کا خاتمہ کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اپنا سرمایہ یہاں سے دیگر صوبوں یا باہر کے ممالک میں منتقل کررہے ہیں۔ حکومت کو سرمایہ کاروں کے تحفظ، انڈسٹریل سٹیٹس کی بحالی اور کاروباری اعتماد کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کسی بھی طور دونوں ممالک اور ان کی عوام کے مفاد میں نہیں۔ اس تناؤ کے اثرات براہِ راست ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب امن و امان، تجارت اور عوامی روابط پر مرتب ہوتے ہیں۔ تمام تنازعات اور غلط فہمیوں کا حل صرف اور صرف مذاکرات، باہمی احترام اور غیر مداخلت کی پالیسی میں مضمر ہے۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام یقینی بنانا اور داخلی امور میں ہر قسم کی مداخلت سے گریز کرنا ہوگا۔ پختونخوا خصوصاً ضم اضلاع کی معیشت افغانستان کے ساتھ تجارت پر منحصر ہے، اس لیے تمام تجارتی راستوں کو مستقل طور پر کھولا جائے، ان کا انتظام صوبائی حکومت کے سپرد کیا جائے اور بارڈر اکانومی کو فروغ دیا جائے تاکہ سرحدی علاقوں میں پائیدار امن اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

امن صرف اس وقت پائیدار ہوگا جب معاشرہ برابری، انصاف اور مساوات پر مبنی ہوگا۔ خواتین، اقلیتوں اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے، نصاب میں امن، رواداری اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جائے اور میڈیا کو شدت پسندی کے بیانیے کے بجائے مکالمے اور برداشت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ پولیس، پراسیکیوشن اور عدلیہ کو دہشت گردی کے خلاف آزاد، محفوظ اور بااختیار بنایا جائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو۔

عوامی نیشنل پارٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ پائیدار امن کے لیے ہمیں ریاستی پالیسیوں میں بنیادی اصلاحات، عوامی شمولیت اور آئین و جمہوریت کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔ یہی حقیقی اور دیرپا امن کا راستہ ہے۔