اسلام آباد کے جی 11 سیکٹر میں عدالت کے قریب خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
جیو نیوز کے مطابق منگل کی دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر کورٹ کے قریب زور دار دھماکا ہوا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے سے قریبی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جب کہ خودکش حملہ آور کے جسم کے پرخچے اڑ گئے۔
پولیس کے مطابق دھماکے سے تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا جن میں سے ایک پولیس کی گاڑی اور دو نجی گاڑیاں تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خودکش حملہ تھا اور جائے وقوعہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر بھی ملا ہے۔ دھماکے میں وکلاء اور سرکاری ملازمین سمیت 12 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔
دھماکے کے زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کردیا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کے باہر ہونے والے دھماکے میں ہندوستانی اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج ملوث ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا میڈیا کو انٹرویو
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا کو بتایا کہ آج رات 12 بج کر 39 منٹ پر خودکش حملہ ہوا، جس میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے۔ خودکش حملہ آور عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ خودکش حملہ آور 10 سے 15 منٹ تک کھڑا رہا، وہ اندر داخل ہونے کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ پولیس کی گاڑی پہنچی تو خودکش حملہ آور نے حملہ کردیا۔ پہلی ترجیح خودکش حملہ آور کی شناخت کی جائے گی۔ عدالتی حملے میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وانا میں بھی گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور نے انٹری پوائنٹ پر دھماکہ کیا۔ وانا میں بھی علاقے کی کلیئرنس جاری ہے۔ وانا حملے میں افغانستان ملوث ہے۔ افغانستان میں رابطہ تھا۔