اسلام آباد ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں اے این پی کی طرف سے خیبر پختو نخوا کا نام تبدیل کرنے کی ترمیم منظور نہ ہوسکی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27 ویں ترمیم میں اے این پی کی شق شامل کرنے کی تجویز پر کمیٹی میں اتفاق نہ ہوسکا، واضح رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق مشتر کہ پارلیمانی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جب کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تین مزید ترامیم پیش کر دی گئیں۔ اے این پی، بی این پی اور ایم کیوایم نے اپنی ترامیم بھی پیش کر دیں، ذرائع نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی عدالتوں کے قیام کی شق کی منظوری دیدی۔ زیر التوا مقدمات میں فیصلے کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم منظور کر لی گئی، ایک سال تک مقدمہ کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔ اے این پی نے خیبر پختو نخوا کا نام تبدیل کرنے کی ترمیم کمیٹی میں پیش کر دی، خیبر پختونخوا سے نام خیبر ہٹا کر پختونخوار کھنے کے ترمیم پیش کی گئی۔ اے این پی نے موقف اپنایا کہ خیبر ضلع ہے دیگر صوبوں میں نام کیساتھ ضلع کا نام نہیں لکھا جاتا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27 ویں ترمیم کے بل میں شامل شقوں پر کام تقریبا مکمل ہو گیا ہے اور خیبر پختو نخوا کے نام کی تبدیلی پر بھی کچھ بات ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بل میں شامل شقوں پر تقریبا تمام کام مکمل ہو گیا ہے، متفقہ ترامیم کی سینٹ میں پیش کریں گے۔