پشاور۔ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے ستائسویں آئینی ترمیم تشویش ناک ہے، آئینی ترمیم کے بعد کسی بھی حج کا تبادلہ قانون کے بغیر کیا جاسکے گا، خیبر پختونخوا میں میرے خلاف 22 کیسز ہیں لیکن صوبائی حکومت عدالت میں رپورٹ جمع نہیں کر رہی ہے۔ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم میں کلیدی کردار پاکستان پیپلز پارٹی کا ہوگا، پیپلز پارٹی کو 18 ویں ترمیم کے خلاف نہیں جانا چاہیے، سنے میں آرہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم تشویش ناک ہے۔ اب قانون کے مطابق حجز کی مرضی کے مطابق تبادلے ہو رہے ہیں جبکہ اس ترمیم میں حجز کی مرضی ختم کی جائینگی یعنی جو جز مقتدر قوتوں کے حق میں فیصلہ نہیں کریں گے ان کا تبادلہ قانون کے بغیر کر دیے جائیں گے، چھبیسویں آئینی ترمیم پہلے ہی عدلیہ کی آزادی پر یلغار ہے، اب ستائسویں ترمیم سے عدلیہ کی آزادی کو مزید خطرہ بڑھ گیا، انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ آرٹیکل ایک سونا نوے کے اختیارات میں بھی کمی کی جارہی ہے، صدر پاکستان کے اختیارات اب وزیر اعظم کو منتقل کرنے کی باتیں بھی چل رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں انکے خلاف 22 مقدمات درج ہیں لیکن صوبائی حکومت اور ایڈووکیٹ جنرل انکے خلاف تفصیلات عدالت میں جمع نہیں کر رہے ہیں انہوں نے کی وہ وکیل ہے اور مقدمات سے نہیں ڈرتے ۔