اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وزارتِ صحت نے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 8 کروڑ لوگ ذہنی امراض یا نفسیاتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس بڑھتی ہوئی تعداد کی بنیادی وجوہات سماجی دباؤ، غربت، بے روزگاری، خاندانی تنازعات اور ماحولیاتی عوامل ہیں۔
سینیئر صحافی آصف بشیر چوہدری نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں نفسیاتی سہولیات، ماہر نفسیات کی خدمات اور ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے تاکہ اس بحران کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، ذہنی امراض کا بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ افراد نہ صرف اپنی زندگی متاثر کرتے ہیں بلکہ معاشرے پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں، اس لیے ملک گیر سطح پر اقدامات ضروری ہیں۔