پاکستان کی پولیس فورس میں ایسے افسران کی کمی نہیں جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر عوام کی حفاظت اور امن و امان کی ضمانت دیتے ہیں، اور ایس ایچ او تھانہ دوآبہ ضلع ہنگو، انسپکٹر عمران الدین، ان میں سرفہرست ہیں۔ ایک ایسے واقعے میں جہاں انہیں شدید زخمی ہونے کا سامنا کرنا پڑا، انسپکٹر عمران الدین نے نہ صرف اپنی جان بچائی بلکہ زخموں کے باوجود دوبارہ ڈیوٹی پر حاضر ہو کر بہادری، جرات اور حوصلے کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف پولیس فورس بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سبق ہے کہ فرض شناسی اور وطن کی محبت کیسے انسانی روح کو بلند کرتی ہے۔
انسپکٹر عمران الدین کی بہادری کی کہانی ضلع ہنگو کے تھانہ دوآبہ سے شروع ہوتی ہے، جہاں وہ ایک حساس علاقے میں تعیناتی کے دوران جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کر رہے تھے۔ ایک آپریشن کے دوران، ان پر حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ ڈاکٹروں نے انہیں آرام اور علاج کی ہدایت دی، لیکن انسپکٹر عمران الدین نے اپنے فرائض کو ترجیح دی۔ زخموں کی تکلیف اور خطرے کے باوجود، وہ دوبارہ ڈیوٹی پر لوٹ آئے، جس سے ان کی ٹیم اور علاقے کے عوام کو نئی توانائی ملی۔ یہ واپسی محض ایک ذاتی فیصلہ نہیں تھی، بلکہ پولیس فورس کی لازوال قربانیوں کی ایک جیت تھی۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ پولیس افسر کا فرض صرف نوکری نہیں، بلکہ قوم کی حفاظت کا عہد ہے، جو زخموں یا موت کی دھمکیوں سے نہیں ڈھلتا۔
انسپکٹر عمران الدین کی جرات اور حوصلہ نہ صرف ان کی ذاتی خوبیاں ہیں بلکہ پولیس فورس میں بہادری کی ایک نئی مثال قائم کرتے ہیں۔ ہنگو جیسے علاقے میں، جہاں دہشت گردی اور جرائم کی دھمکیاں ہر وقت موجود ہوتی ہیں، ایسے افسران ہی امن کی ضمانت دیتے ہیں۔ ان کی واپسی نے علاقے میں جرائم کی حوصلہ شکنی کی، اور عوام کو یہ احساس دلایا کہ پولیس ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کی قربانیوں نے ثابت کیا ہے کہ پولیس فورس کا ہر فرد، چاہے وہ اعلیٰ افسر ہو یا کانسٹیبل، وطن کی خدمت میں اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے۔ یہ لازوال قربانیاں خیبرپختونخوا پولیس کی روایت کا حصہ ہیں، جو دہشت گردی، جرائم اور انتشار کے خلاف لڑتی رہتی ہے۔
عوام الناس نے انسپکٹر عمران الدین کی بہادری کو سلام کرتے ہوئے آئی جی پی خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے دلیر افسران کو بلٹ پروف گاڑیاں اور جدید تحفظی آلات فراہم کیے جائیں۔ بنوں ڈویژن اور ہنگو کے عوام کا کہنا ہے کہ "انسپکٹر عمران الدین جیسے افسران کو محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، تاکہ وہ مزید بے خوف ہو کر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔" یہ مطالبہ پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور افسران کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے، کیونکہ آج کے دور میں جرائم پیشہ عناصر جدید ہتھیاروں سے لیس ہوتے ہیں، اور پولیس کو بھی برابر کا سامنا کرنے کے لیے وسائل درکار ہیں۔ عوام کا یہ مطالبہ انسپکٹر عمران الدین کی قربانیوں کی قدر کو ظاہر کرتا ہے اور پولیس محکمہ کو مزید مضبوط بنانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
انسپکٹر عمران الدین زندہ باد! ان کی بہادری، جرات اور حوصلہ ہر پاکستانی کے لیے فخر کا باعث ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس پائندہ باد—ایسی فورس جو قوم کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ایسے دلیر افسران کو ہمیشہ تحفظ عطا فرمائے، اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں۔