ضلعی انتظامیہ باجوڑ، ضلعی پولیس اور اے ڈی آر جرگہ کی کاوشوں سے علاقہ متہ شاہ تحصیل سلارزئی میں 25 سالہ پرانی خونریزی دوستی میں بدل گئی۔
علاقہ متہ شاہ تحصیل سلارزئی کے رہائشی ملک غلام رسول خان اور ملک غلام قادر خان کے درمیان گزشتہ 25 سال سے جاری خونریزی، جس میں 6 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے تھے، بالآخر ضلعی انتظامیہ باجوڑ، ضلعی پولیس اور جرگے کی انتھک کوششوں سے پُرامن طور پر ختم ہوگئی۔ضلعی انتظامیہ باجوڑ نے جرگہ ممبران ملک زادہ لقمان خان اور دیگر مشران کی مدد سے اس دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے مسلسل کوششیں
جاری رکھیں، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان "صلح نامہ" (امن معاہدہ) طے پایا، جس کو فریقین نے من و عن تسلیم کیا۔ اس موقع پر جرگہ ہال سول کالونی خار میں ایک
پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی خان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر باجوڑ وقاص، اسسٹنٹ کمشنر خار ڈاکٹر صادق علی، ایم پی اے انور زیب خان،
ایم پی اے ڈاکٹر حمید الرحمن، ایم پی اے محمد نثار باز، سابقہ ایم این اے سید اخون زادہ چٹان، سابق سینیٹر عبد الرشید، سیاسی و مذہبی رہنما، میڈیا کے نمائندگان اور قبائلی عمائدین سمیت دونوں فریقوں کے نمائندگان نے شرکت کی، ایک
دوسرے سے باضابطہ بغل گیر ہوئے اور باہمی صلح کا اعلان کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ علاقے میں دیرینہ
تنازعات کے حل اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ گزشتہ بارہ مہینوں میں اے ڈی آر جرگوں کے ذریعے 52 تنازعات حل کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا
کہ باجوڑ میں امن و استحکام کے لیے ایسے اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔علاقے کے عوام اور دیگر اضلاع کے عمائدین نے ضلعی انتظامیہ باجوڑ کے کردار کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ دیگر اضلاع کی انتظامیہ بھی اسی طرز پر امن و مصالحت کے اقدامات
کرے گی۔