بنوں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور سابق امیدوار صوبائی اسمبلی پی کے -103 ملک لیاقت علی خان وزیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ورکر اور رہنما عمران نیازی کے حوالے سے ان کی جمہوریت کے لیے نام نہاد خدمات اور جدوجہد کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے لیکن وہ یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ یہی عمران نیازی 2018 میں اسٹیبلشمنٹ اور مخصوص ججوں کے فیصلوں کی بدولت اقتدار میں آیا، انہوں نے کہا کہ 2013 سے 2018 کے درمیان کا قائد محمد نواز شریف کا دور پاکستان کی تاریخ کا سب سے سنہرا دور تھا جس میں ملک کے طول و عرض میں امن و امان کے ساتھ ساتھ مہنگائی بے روزگاری کا نام و نشان تک نا تھا اور ہر طرف عوام آسودہ حال تھی لیکن پھر جمہوریت کے نام نہاد علمبردار اور پی ٹی آئی کے ورکروں کے مہاتما عمران نیازی نے سازش کرکے نواز شریف کو مخصوص ججوں کی مدد سے نااہل کروایا اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے مسلم لیگ(ن) کی پنجاب سے قومی اسمبلی کی 25 سے 30 نشستیں چوری کروا کر اقتدار میں آیا لیکن چونکہ وہ ایک نااہل شیخص تھا لہذا انہوں نے ملک کو ان چار سالوں میں شدید بحران کا شکار کیا، انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کی حکومت ایک ایسی منحوس حکومت تھی جو سب کچھ بہا کر لے گئی اور پاکستان کی معاشی ترقی کو بربادی میں بدل دیا، ملک لیاقت علی خان وزیر نے کہا کہ جیل سے جمہوریت کی جنگ وہ لڑرہا ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ اور مخصوص ججوں کے ساتھ ملکر نواز شریف کی جمیوری حکومت گرائی تھی، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں 13 سال سے حکومت ہے جبکہ عمران نیازی نے وفاق میں بطور وزیراعظم 4 سال گزارے، اس دوران وفاق کے 4 بجٹ منظور ہوئے لیکن خیبرپختونخوا جہاں پی ٹی آئی کی حکومت تھی اس بدحال صوبے کے لیے بجٹ میں کونسے میگا پروجیکٹس منظور کیے گیے اور صوبے کی بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے، پی ٹی آئی 13سالہ صوبائی حکومت اور 4سالہ وفاقی دور میں کوئی ایک بھی میگا منصوبہ دکھائے جو خیبرپختونخوا کی عوام کو دیا گیا ہو، اگر پی ٹی آئی عوامی نمائندگی اور ترقی کی دعوے دار ہے تو خیبرپختونخوا کی عوام کو 13سالہ صوبائی دور اور 4سالہ وفاقی دور کے خیبرپختونخوا کے لیے منظور منصوبے بتائے جائیں لیکن پی ٹی آئی کبھی بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی کیونکہ ان لوگوں نے صرف کرپشن کی جبکہ صوبے کی غریب عوام کے لیے کچھ بھی نہیں کیا