آج دو نومبر پاکستان سمیت پوری دنیا میں صحافت کے خلاف جرائم میں سزا سے بریت کے خاتمی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی منظوری اقوام متحدہ نے دو نومبر 2013 میں جنرل اسمبلی نے دیا تھا اور اور 2014 سے باقاعدہ منایا جاتا ہے
صحافت کے بنیادی مقاصد اور معاشرے پر اسکے اثرات۔
صحافت کو معاشرے کا "چوتھا ستون کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ جمہوری معاشروں کی تشکیل اور اسے چلانے میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ائیے ہم صحافت کے مقاصد اور پھر معاشرے پر اس کے اثرات کو الگ الگ دیکھتے ہیں۔
صحافت کے بنیادی مقاصد۔
صحافت کے چند اہم اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ مقاصد درج ذیل ہیں:
1. اطلاع رسانی
· یہ صحافت کا سب سے بنیادی مقصد ہے۔ عوام کو روزمرہ کے واقعات، حکومتی پالیسیوں، معاشی صورتحال اور سماجی مسائل کے بارے میں درست اور بروقت معلومات فراہم کرنا۔
2. عوامی مفاد میں نگرانی
· صحافت حکومت، اداروں اور طاقتور افراد پر نظر رکھتی ہے۔ یہ ان کے کاموں کی نگرانی کرتی ہے اور بدعنوانی، نااہلی یا طاقت کے غلط استعمال کو بے نقاب کر کے عوام کے مفاد کا تحفظ کرتی ہے۔ اسے "چوکیدار" کا کردار سمجھیں۔
3. تشہیر و تشریح ۔
· محض خبریں دینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ صحافت پیچیدہ معاملات (جیسے بجٹ، صحت کے مسائل، سفارت کاری) کو عام آدمی کی سمجھ میں آنے والی زبان میں پیش کرتی ہے اور ان کے پس منظر اور ممکنہ اثرات کی وضاحت کرتی ہے۔
4. عوامی رائے کی تشکیل
· صحافت مختلف مسائل پر بحث و مباحثے کا پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ مختلف نقطہ نظر پیش کر کے یہ عوام کو سمجھنے اور اپنی رائے قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
5. ہر مکتب فکر کے لوگوں کو پلیٹ فارم مہیا کرنا
· اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا عوام، ماہرین اور رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا ذریعہ ہیں۔ یہ معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
6. لوگوں کو تفریح کے مواقع فراہم کرنا
· خبروں کے ساتھ ساتھ، کھیل، ثقافت، فنون لطیفہ اور طرز زندگی سے متعلق مواد لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ بھی ہے۔
معاشرے پر صحافت کے اثرات
صحافت کے یہ مقاصد معاشرے پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں:
1. شہریوں کو بااختیار بنانا
· صحافت معلومات کی بنیاد پر عوام کو بااختیار بناتی ہے، تاکہ وہ باخبر رہ کر اپنے ووٹ اور فیصلوں کا استعمال کر سکیں۔ یہ جمہوریت کی بنیاد ہے۔
2. شفافیت اور جوابدہی
· صحافت کی نگرانی کا کردار حکومت اور اداروں میں شفافیت لاتا ہے۔ یہ انہیں عوام کے سامنے جوابدہ بناتی ہے، جس سے بدعنوانی پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔
3. سماجی تبدیلی کا ذریعہ
· صحافت سماجی برائیوں (جیسے جہیز، جنسی تشدد، تعلیم کی کمی) کو اجاگر کر کے معاشرے میں بیداری لاتی ہے اور اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالتی ہے۔
4. قومی یکجہتی
· صحافت ملک کے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے مسائل، ثقافت اور خیالات سے روشناس کراتی ہے، جس سے قومی یکجہتی کو تقویت ملتی ہے۔
5. بحران کے وقت رہنمائی
· جنگ، قدرتی آفات یا وبائی امراض (جیسے کورونا) کے دوران صحاحت حکومتی ہدایات، احتیاطی تدابیر اور امدادی سرگرمیوں کی معلومات عوام تک پہنچا کر اہم کردار ادا کرتی ہے۔
6. منفی اثرات
· اگر صحافت اپنے اخلاقی فرائض سے ہٹ جائے تو اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں:
· جذباتی بھڑکاؤ ٹی آر پی کے چکر میں غیر معیاری یا جذباتی خبریں پیش کرنا۔
· جعلی خبریں بغیر تصدیق کے غلط معلومات کا پھیلاؤ، جس سے معاشرے میں انتشار اور عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
· تعصب کسی خاص سیاسی یا سماجی نظریے کی طرف جھکاؤ رکھنا، جس سے عوام کی رائے متاث بغیر ثبوت کے کسی کی عزت کو نشانہ بنانا۔
خلاصہ:صحافت ایک طاقتور ہتھیار ہے۔اگر یہ ایماندارانہ، ذمہ دارانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر اپنے فرائض انجام دے تو یہ کسی معاشرے کی صحت، ترقی اور استحکام کی سب سے بڑی ضامن بن سکتی ہے۔ لیکن اگر یہی طاقت غلط ہاتھوں میں چلی جائے یا اس کا غلط استعمال ہو تو یہ معاشرے کو تباہی کی طرف بھی لے