اسلام آباد ۔ آئی ایم ایف کے فریم ورک کے تحت پاکستان کے ذمہ قرضوں سے متعلق رپورٹ سامنے آگئی ہے، 3 سال میں پاکستان کے ذمہ قرضوں کا تناسب 70.8 فیصد سے کم ہو کر 60.8 فیصد پر آنے کا تخمینہ ہے ، مالی سال 2026 ء سے 2028 ء کی درمیانی مدت میں قرض پائیدار رہنے کی توقع ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق جون 2025 تک پاکستان کے ذمہ مجموعی قرضہ 84 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہو گیا، گزشتہ ایک سال کے دوران قرضے میں 10 ہزار ارب روپے سے زیادہ اضافہ ہوا، سال 2028 تک فنانسنگ کی ضروریات 18.1 فیصد کی بلند سطح پر ہیں گی ، گزشتہ سال مارک اپ ادائیگیوں میں 888 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ نے قرضوں سے متعلق خطرات اور چیلنجز کی بھی نشاندہی کر دی ہے۔ دستاویز کے مطابق معاشی ست روی قرضوں کی پائیداری کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے، ایچینج ریٹ اور سود کی شرح میں تبدیلی قرض کا بوجھ بڑھا سکتی ہے، بیرونی جھٹکے اور موسمیاتی تبدیلی قرض کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں، فلوٹنگ ریٹ قرض کی بڑی مقدار سے شرح سود کا خطر و بلند رہے گا